بنگلا دیش نے بدھ کے دن ڈھاکا میں پاکستان کو پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میں 8 وکٹوں سے شکست دے دی۔
بنگلا دیش نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی اور ان کو صرف 30.4 اوورز میں 114 رن پہ آل اؤٹ کردیا۔ جواب میں بنگلا دیش کے اوپنر تنزید حسن نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے رن سکور کیے اور اپنی ٹیم کو صرف اوورز میں جیت دلادی۔ پاکستان کی ناقص بیٹنگ کی وجہ سے میچ میں ڈنر بریک لینے کی بھی ضرورت نہیں پڑی۔
بنگلا دیش کی طرف سے ان کے سابق کپتان نجم الحسن شانتو نے بھی 27 رنز کیے۔ پاکستان کے بیٹس مین شارٹ پچ گیندوں پر سنبھل نہیں پائے اور بنگلا دیش کے نوجوان فاسٹ بالر ناہید رانا نے اپنے پہلے پانچ اوور میں ہی پانچ وکٹیں حاصل کر لیے اور اس طرح سے انہوں نے میچ میں سات اوورز میں 24 رنز دے کر پہلی دفعہ انٹرنیشنلز میں پانچ وکٹیں لیں۔ وہ فہیم اشرف کا ریٹرن کیچ نہیں لے پائے ورنہ ان کی چھ وکٹیں ہوتی ہیں۔
بنگلا دیش کے کپتان مہدی حسن میراث نے بھی تین وکٹیں حاصل کی۔ مشرف پاکستان کے سب سے زیادہ رنز کرنے والے بیٹسمین تھے جب انہوں نے 47 بالز پہ 37 رنز بنائے اور آخری وکٹ کی شراکت میں ابرار احمد کے ساتھ 32 رنز کی پارٹنرشپ کی۔ صاحبزادہ فرحان پاکستان کی طرف سے دوسرے سب سے زیادہ رنز کرنے والے بیٹسمین بنے جب انہوں نے 27 رنز کیے۔
پاکستان نے آج چار کھلاڑی ایسے کھلائے جو پہلی دفعہ ون ڈے انٹرنیشنلز کھیل رہے تھے اور ان میں علاوہ فرحان کے سبھی ناکام رہے۔ معاذ صداقت اور شمائل حسین پہلی دفعہ پاکستان کی طرف سے کسی بھی طرز کی کرکٹ میں کھیل رہے تھے جبکہ صاحبزادہ فرحان اور عبدالصمد پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نمائندگی کرچکے ہیں۔ تنزید حسن نے اپنی اننگز میں پانچ چھکے اور سات چوکے لگائے ہیں اور صرف 32 گیندوں پہ اپنی نصف سینچری مکمل کی۔