سموسے والے کا بیٹا امریکا میں بطور سافٹ ویئر انجینئر فرائض انجام دینے لگا

image

بھارت کے شہر حیدرآباد میں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے نوجوان کی محنت، لگن اور تعلیم سے غیرمعمولی محبت نے اسے کامیابی کی ایسی منزل تک پہنچا دیا جس نے ہر سننے والے کو متاثر کر دیا۔

موہن ابھیاس نامی محنت کش نوجوان نے اپنی جدوجہد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی والدہ گھر میں سموسے تیار کرتی تھیں جبکہ والد انہیں سائیکل پر رکھ کر پورا دن بیچتے تھے۔ دن بھر کی سخت محنت کے باوجود ان کی روزانہ آمدنی صرف 300 سے 500 روپے تک ہوتی تھی، جس سے گھر کا خرچ بمشکل چلتا تھا۔

نوجوان نے بتایا کہ اس کے والدین نے کبھی اس پر دباؤ نہیں ڈالا بلکہ ہمیشہ تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔ وہ خود بھی اپنی والدہ کے ساتھ سموسوں میں مصالحہ بھرنے میں مدد کرتا تھا تاکہ گھر کے کام میں ہاتھ بٹا سکے۔

نوجوان کے مطابق وہ روزانہ صبح سویرے اٹھتا تھا تاکہ دن کا آغاز پڑھائی سے کر سکے۔ مالی مشکلات کے باوجود اس نے تعلیم کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد بنا لیا تھا۔

موہن نے بتایا کہ اگرچہ اس کا تعلق ایک سادہ اور محدود وسائل والے گھرانے سے تھا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے اسکول میں نمایاں کارکردگی دکھاتا رہا اور اکثر ہم جماعت اس کی کامیابی پر حیران رہتے تھے۔ وہ نہ صرف اپنی جماعت میں نمایاں طالب علم تھا بلکہ کلاس میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کرتا تھا۔

نوجوان نے دسویں جماعت میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد گیارہویں جماعت سے ہی بھارت کے مشکل ترین انجینئرنگ امتحان (آئی آئی ٹی، جے ای ای ایڈوانس) کی تیاری شروع کر دی۔

مالی مشکلات کے باعث وہ کسی مہنگے کوچنگ سینٹر میں داخلہ نہ لے سکا اور اس نے مکمل طور پر خود مطالعہ کے ذریعے امتحان کی تیاری کی۔ اس کا کہنا تھا کہ تعلیم کے لیے اس کا جذبہ اس قدر مضبوط تھا کہ کئی مرتبہ اسے بھوک تک محسوس نہیں ہوتی تھی اور یہاں تک کہ خوابوں میں بھی فارمولے اور سائنسی تصورات نظر آتے تھے۔

اس نے بتایا کہ تیاری کے دو سال کے دوران اس کے والدین نے اسے کسی قسم کے گھریلو کام کرنے کا نہیں کہا تاکہ وہ پوری توجہ اپنی تعلیم پر مرکوز رکھ سکے۔

بالآخر دو سال کی مسلسل محنت کے بعد اس نوجوان نے آئی آئی ٹی، جے ای ای ایڈوانس میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے داخلہ امتحان میں 64ویں پوزیشن حاصل کی اور بھارت کے ممتاز تعلیمی ادارے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بمبئی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

نوجوان کا کہنا ہے کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا ذریعہ بھارت کے معروف سائنسدان اور سابق صدر اے پی جے عبدالکلام ہیں، جن کی جدوجہد اور سادگی نے اسے ہمیشہ بڑے خواب دیکھنے اور محنت کرنے کا حوصلہ دیا۔

اسٹوری پک نامی ویب سائٹ کے مطابق 25 سالہ موہن ابھیاس امریکا کے شہر پالو آلٹو میں مقیم ہیں اور کلاؤڈ ڈیٹا مینجمنٹ اور سیکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والی کمپنی ربرک میں سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ گزشتہ تین برس سے اس کمپنی سے وابستہ ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US