ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا اور اسرائیل کو مکمل سزا دینے تک جنگ جاری رکھے گا اور خطے میں اپنے حملوں کی شدت بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی مشترکہ فوجی کمانڈ خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایران جوابی حملوں کی پالیسی ختم کرکے مسلسل حملوں کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے ایک بوند تیل بھی بغیر اجازت نہیں جائے گی، عالمی تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ہے اور اسرائیل، امریکا اور ان کے اتحادیوں کے جہاز ہدف بنیں گے۔
ایرانی نیول چیف نے ہدایت کی کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہاز ایران سے اجازت نامہ حاصل کریں اور محفوظ راستے کے دعووں پر بھروسہ نہ کیا جائے۔
ایران کے اسلامک ری پبلکن گارڈز نے اعلان کیا کہ وہ اب اسرائیل اور خلیج میں موجود امریکی ٹیک کمپنیوں جیسے گوگل، مائیکروسافٹ، اوریکل اور بینکوں کو نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے دور رہیں جو امریکا یا اسرائیل سے وابستہ ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے تہران اور اصفہان میں بمباری کی جس کے نتیجے میں تہران میں ایک شہری شہید، اصفہان میں روسی قونصل خانہ متاثر، اور تبریز میں تین شہری ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
28 فروری سے جاری حملوں کے دوران ایران میں تقریباً 10 ہزار شہری مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور 20 ہزار عمارتیں متاثر ہوئی ہیں۔