بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جہاں ڈاکٹروں کی جانب سے تقریباً دماغی طور پر مردہ قرار دی گئی ایک خاتون ایمبولینس کو لگنے والے شدید جھٹکے کے بعد اچانک دوبارہ سانس لینے لگی اور بعد ازاں علاج کے بعد صحت یاب بھی ہوگئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 50 سالہ ونیتا شکلا، جو ضلع پیلی بھیت کی رہائشی ہیں، شدید طبی حالت کے باعث بریلی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ خاتون کے دماغی ردعمل تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور ان کی صحت یابی کی بھی کوئی امید باقی نہ رہی تھی۔
اہلِ خانہ کے مطابق جب ونیتا شکلا کو اسپتال سے گھر منتقل کیا جا رہا تھا تو ایمبولینس بریلی ہریدوار نیشنل ہائی وے پر ایک بڑے گڑھے سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں گاڑی کو شدید جھٹکا لگا۔ اسی لمحے خاتون نے اچانک دوبارہ سانس لینا شروع کر دی۔
خاتون کے شوہر کلدیپ شکلا کے مطابق وہ اہلِ خانہ کو آخری رسومات کی تیاری کا کہہ چکے تھے کیونکہ اس وقت ان کی بیوی سانس نہیں لے رہی تھیں اور دل کی دھڑکن بھی انتہائی کم رہ گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایمبولینس کے جھٹکے کے بعد جب ونیتا شکلا نے سانس لینا شروع کیا تو انہوں نے فوری طور پر آخری رسومات کی تمام تیاریاں رکوا دیں اور انہیں فوری طور پر نیورو سٹی اسپتال منتقل کیا۔
اسپتال میں نیورو سرجن ڈاکٹر راکیش سنگھ کے مطابق ابتدائی معائنے کے وقت مریضہ کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور ان کا گلاسگو کوما اسکیل اسکور 15 میں سے صرف 3 تھا، جو مکمل بے ہوشی کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ خون اور جسمانی نظام میں موجود زہریلے نیوروٹاکسنز کی تشخیص کے بعد فوری علاج شروع کیا گیا جس کے نتیجے میں مریضہ کی حالت بتدریج بہتر ہوتی گئی۔
اہلِ خانہ کے مطابق اب ونیتا شکلا مکمل ہوش میں ہیں اور صحت یاب ہونے کے بعد اپنے گھر واپس آ چکی ہیں، جبکہ ان کے شوہر کا کہنا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا معجزہ ہے کیونکہ وہ موت کے دہانے سے واپس آ گئی ہیں۔