مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث عالمی منڈی میں روسی تیل کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل کی سپلائی پر دباؤ بڑھا دیا ہے جس کے نتیجے میں روس کے تیل کی مانگ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق روس اس وقت عالمی منڈی میں یومیہ تقریباً 15 کروڑ ڈالر مالیت کا تیل فروخت کر رہا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر امریکا نے تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے روسی تیل کی فروخت پر عائد بعض پابندیاں عارضی طور پر نرم کر دی ہیں۔
امریکی جریدے فنانشنل ٹائمز کے مطابق روس نے حالیہ دنوں میں جو تیل چین اور بھارت کو بیچا ہے اس پر صرف ٹیکس کی مد میں 2 ارب ڈالرز کمائے ہیں۔