پاکستان کے مایہ ناز بیٹسمین اور سابق کپتان بابر اعظم کو بنگلا دیش میں ہونے والی ون ڈے سیریز کے لیے سلیکٹ نہ کیا جانا ایک معمہ بن گیا ہے۔
ہفتے کے دن قومی سلیکشن کمیٹی کے سینیئر ممبر عاقب جاوید نے دعویٰ کیا تھا کہ بابر اور فخر زمان دونوں انجریز کی وجہ سے ٹیم میں سلیکٹ نہیں ہوئے اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس بات کی چھان بین کرے گا کہ دونوں کھلاڑیوں کی انجریز کیسے ہوگئی۔
عاقب کے اس بیان کے بعد بابراعظم کی آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پہ طنزیہ پوسٹ ڈالی گئی جس میں یہ بات واضح کی گئی کہ وہ فٹ ہیں اور کھیل سکتے تھے۔
دوسری طرف اتوار کے دن بنگلا دیش سے ون ڈے سیریز ہارنے کے بعد پاکستان کے ہیڈ کوچ مائک ہیسن نے میڈیا کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا کہ بابر اعظم اور دوسرے سینئر کھلاڑیوں کو سیریز میں آرام دیا گیا کیونکہ وہ کچھ نئے کھلاڑیوں کو بھی موقع دینا چاہتے تھے۔
مائک ہیسن کا دعویٰ تھا کہ نئے کھلاڑیوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ بتایا کہ وہ انٹرنیشنل کھیل سکتے ہیں۔ ان حالات میں کچھ سابق کھلاڑیوں نے اور کرکٹ کے شائقین نے یہ سوال کرنا شروع کردیا ہے کہ آخر ماجرا کیا ہے، کیا بابراعظم کو ڈراپ کیا گیا کیا ان کو آرام دیا گیا یا وہ واقعی انجرڈ ہیں کیونکہ بابر اس وقت ہونے والے قومی ٹی ٹوئنٹی چیمپین شپ میں بھی حصہ نہیں لے رہے۔
بابر اعظم حالیہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کپ میں ناکام رہے مگر ان کو بنگلا دیش میں ون ڈے سیریز میں نہ رکھنے پر کرکٹ شائقین نے اس چیز پر زور دیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی اور 50 اوور کی کرکٹ میں بہت فرق ہے اور اب بھی بابر کا ریکارڈ 50 اوور کی کرکٹ میں بہترین ہے۔