پاکستان کے سابق کپتان اور مایہ ناز آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے قومی سلیکشن کمیٹی پر شدید تنقید کی ہے اور ان کا ماننا ہے کہ شاید اب تبدیلی کی ضرورت ہے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں شاہد آفریدی نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ سلیکشن کمیٹی میں جو ممبران ہیں انہوں نے اتنی کرکٹ کھیلی ہے مگر ان کو یہ سمجھ نہیں کہ کس فارمیٹ میں کس کو کپتان بنانا ہے۔
شاہد آفریدی کا اشارہ شاید اس طرف تھا کہ ان کے داماد شاہین شاہ آفریدی کو ون ڈے کی بجائے ٹی ٹوئنٹی کا کپتان ہونا چاہیے اور سلمان آغا کو ٹی ٹوئنٹی کی جگہ ون ڈے کا کپتان ہونا چاہیے۔
قومی سلیکشن کمیٹی کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ قومی سلیکٹرز کپتانی کا فیصلہ نہیں کرتے اور یہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے پاس حق ہے کہ وہ کس کو کپتان بناتے ہیں۔
ذرائع نے یہ تسلیم کیا کہ کپتان بنانے سے پہلے چیئرمین اپنے ایڈوائزرز اور سلیکٹرز سے اور ٹیم کے ہیڈ کوچ سے بات اور مشورہ کر کے کپتانی کا فیصلہ کرتے ہیں۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کو آزمانا کوئی بری بات نہیں مگر ایک ساتھ منجھے ہوئے کھلاڑیوں کو ون ڈے کی ٹیم میں سلیکٹ نہ کرنا بھی کوئی دانشمندی کا فیصلہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم میں بار بار تبدیلیاں کرنے سے کھلاڑیوں کے اعتماد پر اثر پڑتا ہے اور پرفارمنسز پر بھی۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار اتنا اچھا نہیں کہ وہاں سے آنے والے نئے کھلاڑی آتے ہی انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی جگہ بنا لیں۔
شاہد آفریدی نے اس بات پر زور دیا کہ قومی ٹیم کے کیپ کی اپنی ایک اہمیت ہے اسے اس طرح ہر ایک کو نہیں دینا چاہیے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے بنگلا دیش میں ہونے والی ون ڈے سیریز کے لیے بابراعظم، سائم ایوب، محمد نواز، نسیم شاہ اور فخر زمان کو سلیکٹ نہیں کیا اور تین میچ کی سیریز میں چار نئے لڑکوں کو آزمایا گیا۔