نیشنل فرانزک ایجنسی نے باضابطہ طور پر اپنے آپریشنز کا آغاز کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں پنجاب کی فرانزک لیبارٹری پر انحصار کم کر سکیں گی۔
حکام کے مطابق صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے مختلف مقدمات کی جانچ کے لیے کیسز نئے ادارے کو موصول ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
ابتدائی مرحلے میں ادارہ فنگر پرنٹ تجزیہ، ڈیجیٹل فرانزک اور منشیات سے متعلق تجزیاتی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ الیکٹرانک ڈیوائسز کی جانچ، سائبر فرانزک، ڈیپ فیک اور سائبر کرائم سے متعلق تحقیقات کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ ادارہ کرائم سین انویسٹی گیشن، آتشیں اسلحہ اور ٹول مارکس، ڈی این اے تجزیہ، ٹاکسیکولوجی، سیرو لوجی، پیتھالوجی اور دھماکا خیز مواد کے معائنے سے متعلق رپورٹس بھی تیار کرے گا۔
حکام کے مطابق 2025 میں اسلام آباد میں قائم کیے گئے نیشنل فرانزک کے ہیڈکوارٹر میں ریسرچ، فرانزک اور ڈیجیٹل فرانزک کے خصوصی شعبے قائم کیے گئے ہیں جبکہ ڈیجیٹل فرانزک ونگ قومی سلامتی سے متعلق معاملات میں معاونت فراہم کرے گا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ ادارہ پولیس ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خدمات فراہم کرے گا، ڈیجیٹل فرانزک شواہد محفوظ رکھے گا اور عدالتوں میں ماہر گواہ کے طور پر بھی معاونت کرے گا۔