وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان حکومت کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیے گئے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جس "امید اسپتال" کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ درحقیقت کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلو میٹر دور واقع ہے۔
وزارت کے مطابق گزشتہ رات کارروائی میں جس مقام کو نشانہ بنایا گیا، وہ عسکری اور دہشت گردی سے متعلق اسلحہ و سازوسامان کا ذخیرہ تھا، نہ کہ کوئی طبی مرکز۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دستیاب تصاویر سے واضح ہوتا ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے، جبکہ ہدف بننے والا مقام اس سے مختلف نوعیت کا انفراسٹرکچر تھا۔
حکام نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ واقعی منشیات کی بحالی کا مرکز تھا تو اسے کسی فوجی کیمپ یا اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہ کے قریب کیوں قائم کیا گیا؟ اس پہلو پر بھی افغان طالبان کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان آفیشل ہینڈل کی جانب سے ابتدائی پوسٹ اور ویڈیو کو بعد میں ڈیلیٹ کر دینا خود شکوک کو جنم دیتا ہے۔ ابتدائی دعوے میں "منشیات بحالی مرکز" کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم اسے ہٹا لیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ امکان بھی زیر غور ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا کلپ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کیا گیا ہو، جو مختلف فیکٹ چیکس کے بعد برقرار نہ رہ سکا۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے مؤقف اختیار کیا کہ حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہیں، تاہم دستیاب شواہد کی روشنی میں دعوؤں اور حقیقت میں واضح فرق سامنے آچکا ہے۔