وفاقی آئینی عدالت نے محفوظ فیصلوں اور عدالتی طرز عمل کے حوالے سے اہم وضاحت جاری کی ہے۔
عدالت نے کہا ہے کہ فیصلہ ججز کے دستخط کے بعد ہی حتمی اور نافذ العمل بنتا ہے جبکہ دستخط سے قبل موجودہ متن صرف ایک ڈرافٹ شمار ہوتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے مزید کہا کہ فیصلے پر دستخط کرنا محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ یہ عمل فیصلے کو مکمل اور حتمی بناتا ہے۔
عدالت کے اس حکم سے عدالتی نظام میں شفافیت اور فیصلوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے واضح رہنمائی مل گئی ہے۔