وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (PARC) کے امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں PARC کی تنظیم نو کی اصولی منظوری دی گئی اور ہدایت کی گئی کہ جامع پلان کے ساتھ ٹائم لائن مرتب کی جائے۔
وزیراعظم نے PARC کو چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (CAAS) کے طرز پر اعلی تحقیقی ادارہ بنانے کی ہدایت کی، تاکہ زرعی تحقیق ملک کے زرعی شعبے اور غذائی تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ PARC کو جدید دور کی تقاضوں کے مطابق فعال ادارہ بنانے کے لیے گورننس ڈھانچے میں اصلاحات، بین الاقوامی شراکت داری، بہترین تحقیقی عملے کی خدمات، اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مضبوط روابط قائم کیے جائیں گے۔
PARC کے تحت کام کرنے والے تمام تحقیقی مراکز کو یکجا کرکے پانچ “سنٹر آف ایکسیلنس” قائم کیے جائیں گے جو زیادہ پیداوار والے بیج، اعلی نسل کے مویشی، پریسیشن ایگریکلچر، فارم میکانائزشن اور اے آئی کے استعمال، اور فوڈ پروسیسنگ میں تحقیق کریں گے۔ زرعی تحقیق کو صنعت کے ساتھ بھی جوڑا جائے گا تاکہ برآمدات بڑھائی جا سکیں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، رانا تنویر حسین، مصدق ملک، مشیران رانا ثناء اللہ، بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی ہارون اختر اور طارق باجوہ، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت احمد عمیر اور دیگر اعلی سرکاری افسران بھی شریک ہوئے۔
یہ اجلاس پاکستان میں زرعی تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور غذائی تحفظ کو مستحکم کرنے کے اقدامات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔