امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کارروائیوں اور ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی شہادت کے بعد بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے شیڈول سے بہت آگے جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کو درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا نے بروقت اقدام نہ کیا ہوتا تو ایران اب تک ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایرانی فضائیہ اور نیوی کو مکمل تباہ کر دیا ہے جس سے ایران کی عسکری صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ علی لاریجانی اور ان کے بیٹے مرتضیٰ کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید کر دیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی کو مشرقی تہران میں نشانہ بنایا گیا وہ اس وقت تہران کے مشرق میں اپنی بیٹی سے ملنے گئے ہوئے تھے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اتحادی ممالک پر بھی تنقید کی اور کہا کہ امریکا کو کسی مدد کی ضرورت نہیں اور نیٹو اس وقت "احمقانہ غلطی" کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کو خطے میں اس وقت ہونا چاہیے تھا جب واقعی ضرورت تھی۔
صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میکرون جلد عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے کیونکہ انہوں نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے آپریشن میں حصہ لینے سے انکار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا سمیت دیگر ممالک نے بھی ایران کے خلاف امریکا کے اقدامات پر حمایت تو ظاہر کی، لیکن ضرورت کے وقت کوئی عملی مدد فراہم نہیں کی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور چین نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں امریکی اپیل مسترد کر دی تھی، جس کے بعد امریکا نے اپنی حکمت عملی خود انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔