پاکستان نے افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے ”آپریشن غضب للحق“ کی عارضی معطلی کی خلاف ورزی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز قرار دے دیا ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کی گئی اور افغان عبوری حکومت کے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات کا مقصد دہشت گردی کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنا ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ اس قسم کا پروپیگنڈا ممکنہ طور پر طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان اپنے مؤقف پر قائم ہے اور کسی بھی دہشت گرد کارروائی یا سرحد پار حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
حکام کے مطابق پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر کسی جانب سے خلاف ورزی کی گئی تو عارضی وقفہ فوری طور پر ختم ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ عیدالفطر کے احترام اور برادر اسلامی ممالک کی درخواست پر آپریشن “غضب للحق” کو عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔ وزیر اطلاعات کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کی درخواست پر یہ فیصلہ کیا گیا اور آپریشن 24 مارچ کی درمیانی شب تک معطل رہے گا۔