خوبصورتی یا خطرہ؟ چاند رات پر مہندی لگوانے والی خواتین خبردار

image

عید الفطر کی آمد کے ساتھ ہی جہاں خریداری اور تیاریوں کا سلسلہ عروج پر ہے وہیں خواتین میں مہندی لگوانے کا رجحان بھی زور پکڑ گیا ہے، تاہم ماہرین امراض جلد نے جدید طرز کی سیاہ اور سفید مہندی کے استعمال پر سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔

عید الفطر قریب آتے ہی خواتین میں مہندی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے، جبکہ چاند رات پر مہندی لگوانے کے لیے باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے اور کئی خواتین پہلے ہی اپائنٹمنٹ بھی بک کروا چکی ہوتی ہیں۔

مہندی صدیوں سے خوشیوں کے تہوار کا حصہ رہی ہے اور خوبصورت ڈیزائنز کی صورت میں اسے آرٹ کی حیثیت حاصل ہے، تاہم ماہرینِ جلد کے مطابق جدید مہندی، خصوصاً سیاہ اور سفید مہندی میں شامل مصنوعی کیمیکلز جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصلی مہندی کا رنگ نارنجی یا بھورا ہوتا ہے، جبکہ سیاہ یا سفید مہندی قدرتی نہیں ہوتی۔ سیاہ مہندی میں عموماً پیرا فینیلینڈیامین (پی پی ڈی) نامی کیمیکل شامل کیا جاتا ہے، جو بالوں کے رنگ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق بالوں کے رنگ میں پی پی ڈی کی مقدار عام طور پر 3 فیصد سے کم رکھی جاتی ہے اور اسے براہ راست جلد پر لگانے سے منع کیا جاتا ہے، لیکن سیاہ اور سفید مہندی میں اس کی مقدار 10 سے 40 فیصد تک ہوسکتی ہے، جو خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

خلیج ٹائمز کے حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ مقدار میں پی پی ڈی جلد پر لگانے سے سرخی، سوجن، جلد پھٹنے، شدید جلن اور مستقل داغ دھبے پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ ردعمل مہینوں تک برقرار رہ سکتا ہے اور بعض اوقات مہندی کا نشان مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔

دوسری جانب قدرتی مہندی ایک پودے “لاوسونیا انرمس” سے حاصل کی جاتی ہے، جو جلد پر سرخی مائل رنگ دیتی ہے اور عام طور پر چار سے پانچ دن تک برقرار رہتی ہے، جبکہ اس کے کوئی مضر اثرات نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس مصنوعی مہندی ایک ہفتے یا اس سے زائد عرصے تک رہ سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق سفید مہندی بھی خواتین میں مقبول ہورہی ہے، تاہم یہ بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ اگرچہ اس میں پی پی ڈی شامل نہیں ہوتا اور یہ جلد کو داغدار نہیں کرتی، لیکن ماہرین کے مطابق یہ بھی مصنوعی کیمیکلز سے تیار کی جاتی ہے اور قدرتی مہندی جتنی محفوظ نہیں ہوتی۔

ماہرین امراض جلد نے مشورہ دیا ہے کہ مہندی لگوانے کے بعد اگر جلد پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر ہو تو فوری طور پر کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US