برطانیہ نے امریکا کو ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق نئی اجازت کے تحت امریکی افواج اب برطانوی اڈوں کو اُن اہداف کے خلاف کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کر سکیں گی جو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے خطرہ بننے والی صلاحیتوں سے متعلق ہیں۔
اس سے قبل برطانیہ امریکا کو صرف محدود نوعیت کی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت دیتا تھا، جن کا مقصد ایران کو ایسے میزائل حملوں سے روکنا تھا جو برطانوی مفادات یا شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق جمعہ کو ہونے والے وزارتی اجلاس میں اس اجازت کے دائرہ کار کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد امریکی افواج کو خطے میں بحری تحفظ سے متعلق آپریشنز کے لیے بھی سہولت حاصل ہو گئی ہے۔
تاہم ڈاؤننگ اسٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ خود ان حملوں میں براہِ راست شریک نہیں ہوگا اور اس کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ترجمان کے مطابق برطانوی اڈے اب امریکی دفاعی اقدامات کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے، خاص طور پر اُن صلاحیتوں کے خلاف جو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔
برطانوی حکومت نے اس کے ساتھ ساتھ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے جلد حل کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے یہ اقدام تاخیر سے اٹھایا گیا اور اسے پہلے ہی ہونا چاہیے تھا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔