وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے عوام سے پیٹرول اور گیس کے استعمال میں 50 فیصد کمی کرنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر قوم نے کھپت کم نہ کی تو عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات ملک پر مرتب ہوں گے۔
نماز عید کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، تاہم سیاسی اور عسکری قیادت ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر اقدامات کر رہی ہے۔
افغانستان سے متعلق گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے۔ پاکستان نہ جنگ چاہتا ہے اور نہ کسی علاقے پر قبضہ، البتہ افغانستان سے مطالبہ ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
انہوں نے بتایا کہ ”آپریشن غضب اللحق“ دہشتگردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے جاری ہے اور اگر دوبارہ ایسے عناصر سرگرم ہوئے تو ان پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
عالمی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پاکستان نے ایران کے خلاف جارحیت کی مذمت کی ہے اور مسلم ممالک پر حملوں کی بھی مخالفت کی۔ ان کے مطابق پاکستان کو ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا اعتماد حاصل ہے اور پاکستان خطے میں مفاہمت کے لیے کردار ادا کر رہا ہے۔
سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف مقدمات حکومت نے نہیں بلکہ عدالتوں نے بنائے اور فیصلے بھی عدلیہ نے دیے۔ انہوں نے 9 مئی کے واقعات کو اداروں کے خلاف سازش قرار دیا اور کہا کہ کسی بےگناہ کو سزا نہیں دی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام احتجاج کی کال دینے والوں کو مسترد کر رہے ہیں جبکہ حکومت کی سیاسی رواداری کی پالیسی کو پذیرائی مل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو سیاسی عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی جا رہی ہے، تاہم کسی قسم کی ڈیل کی گنجائش نہیں ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات جلد کرائے جائیں گے اور اس حوالے سے تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔