سابق امریکی سیکرٹری دفاع اور سابق سی آئی اے ڈائریکٹر لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک انتہائی مشکل صورتحال میں پھنس چکے ہیں جہاں ان کے پاس مؤثر اور واضح راستہ موجود نہیں ہے۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں لیون پنیٹا نے ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹھوس منصوبہ بندی کے بجائے قیاس آرائی اور غیر حقیقت پسندانہ سوچ پر انحصار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کو یہ غلط فہمی ہے کہ ان کے بیانات خود بخود حقیقت میں بدل جائیں گے جو غیر سنجیدہ طرز عمل ہے۔
لیون پنیٹا نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے فیصلے کو بڑی اسٹریٹجک غلطی قرار دیا کیونکہ اس کے نتیجے میں سخت مؤقف رکھنے والی قیادت سامنے آئی اور تنازع مزید پیچیدہ ہو گیا۔
سابق سیکرٹری دفاع نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ ایک مضبوط عہدے دار کے بجائے صدر کے حامی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
پنیٹا نے کہا کہ جنگی مناظر اور ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کی منتقلی کو تشہیری اور فنڈ ریزنگ مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو غیر مہذب عمل ہے۔
ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں امریکا کے پاس محدود آپشنز رہ گئے ہیں جہاں ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے باعث جنگ بندی مشکل ہو گئی ہے، اور اگر امریکا ایرانی ساحلی دفاعی نظام کو نشانہ بناتا ہے تو جنگ میں شدت اور جانی نقصان کے خدشات بڑھ جائیں گے۔