پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اب تک واضح نہیں کیا ہے کہ وہ سابق کھلاڑی جو بورڈ سے تنخواہ وصول کر رہے ہیں کیا پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائزز کے ساتھ کام کرنے کے اہل ہیں یا نہیں۔
یہ معاملہ اس لیے زیر بحث آیا ہے کیونکہ پی ایس ایل کی فرنچائز کوئٹہ گلیڈیٹرز نے اعلان کیا کہ سابق کپتان سرفراز احمد ان کے ڈائریکٹر ہوں گے جبکہ وہاب ریاض ان کی بولنگ کوچ کے طور پر کام کریں گے۔ ساتھ ہی مصباح الحق بھی کسی نئی فرنچائز کے ساتھ منسلک ہیں۔
سرفراز اور مصباح الحق اس وقت پی سی بی کی قومی سلیکشن کمیٹی کا حصہ ہیں اور دیگر عہدوں پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں اور بورڈ سے لاکھوں روپے کی تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ دوسری جانب وہاب ریاض قومی خواتین ٹیم کے ساتھ مینٹور اور کوچ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے اتوار کو میڈیا کانفرنس میں صرف اتنا کہا کہ بورڈ کے فل ٹائم ایمپلائیز پی ایس ایل میں کام نہیں کر سکتے جبکہ فل ٹائم نہیں ہونے والے سابق کھلاڑی کام کر سکتے ہیں۔ ان کے اس جواب سے یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ کیا وہ سابق کھلاڑی جو بورڈ کے ساتھ کنٹریکٹ پر بھاری معاوضہ وصول کر رہے ہیں بورڈ کے لحاظ سے فل ٹائم تصور کیے جائیں یا نہیں۔
پی سی بی کے ملازمین نے پہلے بھی اس بات پر تشویش ظاہر کی تھی کہ بورڈ سے تنخواہ لینے والے کھلاڑی فرنچائزز کے لیے کام کر کے دوہری آمدنی حاصل کر رہے ہیں جسے اخلاقی طور پر درست نہیں سمجھا جاتا۔
پی سی بی کے ایک نمائندے نے کہا کہ اس مسئلے پر بورڈ جلد واضح پالیسی جاری کرے گا تاکہ تمام ملازمین اور سابق کھلاڑیوں کے لیے اصول طے ہو جائیں۔
واضح رہے کہ پی ایس ایل کا 26 مارچ سے لاہور میں آغاز ہو رہا ہے اور سرفراز احمد اس لیگ کے ساتھ مختلف عہدوں پر منسلک رہ چکے ہیں۔