ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے ’مکمل اور جامع حل‘ کے حوالے سے ایران سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔ تاہم ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی صدر کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ انھوں نے تہران کے مرکز میں فضائی حملے کیے ہیں۔
- ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ’مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے مکمل اور جامع حل کے حوالے سے ایران سے تعمیری بات چیت ہوئی ہے‘
- ایران کی وزارتِ خارجہ نے امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کسی قسم کی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی
- جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم پانچ دن کا وقفہ کر رہے ہیں اور دیکھیں گے کہ یہ کیسا جاتا ہے۔ اگر یہ ٹھیک رہا تو ہم اس مسئلے کو طے کر لیں گے ورنہ بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا‘
- آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی 48 گھنٹے کی مہلت ختم ہونے میں چند ہی گھنٹے باقی رہ گئے ہیں
- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ ’امن طاقت کے ذریعے، نرم انداز میں بیان کیا جائے تو‘
- توانائی کے انفراسٹرکچر پر ممکنہ حملوں کی امریکی اور ایرانی دھمکیوں کے بعد بین الاقوامی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے
ٹرمپ کا ایران کے ساتھ ’تعمیری‘ بات چیت کا دعویٰ مگر ایرانی وزارت خارجہ کی تردید، تہران پر اسرائیلی بمباری جاری