چین میں ایک 28 سالہ خاتون ہونگ یانگ لی، جسے پیدائش کے صرف ایک دن بعد خاندان کے ایک رکن نے ٹوائلٹ میں چھوڑ دیا تھا، آخرکار اپنے حقیقی والدین سے ملنے میں کامیاب ہوگئی۔ سالوں بعد یہ جذباتی ملاقات صوبہ جانگشی کے Nanchang میں دیکھنے والوں کے لیے حیران کن منظر تھی۔
ہونگ یانگ لی کی پیدائش صوبہ جانگشی کے علاقے Nanchang میں ہوئی تھی۔ وہ اپنے والدین کی تیسری اولاد تھیں۔ ان کی والدہ یانگ شیاؤننگ نے بتایا کہ پیدائش کے اگلے دن ان کے سسر نے بچی کو اپنے ساتھ لے جانے کی درخواست کی، اور چونکہ وہ خود بہت کمزور تھیں اور شوہر کام پر مصروف تھے، تو انہوں نے اجازت دے دی۔
مگر یہ آخری موقع تھا جب انہوں نے اپنی بیٹی کو دیکھا۔ یانگ شیاؤننگ کے مطابق ان کے سسر کو لڑکیاں پسند نہیں تھیں اور وہ پوتوں کے خواہشمند تھے، لہٰذا انہوں نے نومولود بچی کو دوسرے گاؤں کے ایک ٹوائلٹ میں چھوڑ دیا۔ یانگ شیاؤننگ نے کہا کہ برسوں تک وہ اپنی بیٹی کے لیے پریشان رہیں، مگر سسر نے کبھی نہیں بتایا کہ بچی کہاں ہے، یہاں تک کہ ان کے انتقال تک۔
ہونگ یانگ لی کے والد شو لیاؤننگ نے کہا کہ وہ برسوں تک اس پچھتاوے کے ساتھ رہے، مگر کبھی پولیس سے رجوع نہیں کیا اور نہ ہی اپنے والد پر غصہ کیا۔ وہ اپنی بیٹی کو تلاش کرتے رہے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔
ہونگ یانگ لی کو ایک راہ گیر نے ٹوائلٹ میں دریافت کیا اور دو سال تک اس کی پرورش کی، پھر اسے ایک مقامی ویلفیر ہوم منتقل کر دیا گیا۔ وہاں اسے ہونگ یانگ لی کا نام دیا گیا۔ بعد میں ایک ڈچ خاندان نے اسے گود لے لیا اور نیدرلینڈز منتقل کر دیا۔
ڈچ جوڑے نے ہونگ یانگ لی کی پرورش محبت اور دیکھ بھال سے کی، مگر وہ ہمیشہ اپنے حقیقی خاندان کو تلاش کرنا چاہتی تھی۔ دسمبر 2024 میں ہونگ یانگ لی نے اپنا خون کا نمونہ چین کے ڈیٹا بیس میں جمع کرایا، جو گمشدہ بچوں کو ان کے خاندان سے ملانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ پولیس نے بعد ازاں ڈی این اے کی مدد سے ہونگ یانگ لی کے والدین کی شناخت کرلی۔
14 مارچ کو ہونگ یانگ لی اپنے والدین کے آبائی علاقے پہنچی، جہاں جذباتی ملاقات دیکھنے میں آئی۔ والدین نے پھولوں اور آتشبازی کے ساتھ استقبال کیا۔ ہونگ یانگ لی کو چینی زبان نہیں آتی، مگر والدین کی باتوں پر وہ رونے لگیں، اور مقامی افراد نے مترجم کا کردار ادا کیا۔
اب ہونگ یانگ لی کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ نیدرلینڈز جا کر اس جوڑے سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، جنہوں نے ان کی بیٹی کی بہترین پرورش کی۔ والد کے مطابق، ہونگ یانگ لی اپنی زندگی کے فیصلے میں آزاد ہیں اور چاہیں تو چین یا نیدرلینڈز میں رہ سکتی ہیں۔