امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی و اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے تہران کو 15 نکاتی امن منصوبہ ارسال کر دیا ہے تاہم اس منصوبے کی تاحال کسی بھی جانب سے باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
الجزیرہ کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے تین بڑے جوہری مراکز ختم کرے اور اپنی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کر دے۔
رپورٹس کے مطابق منصوبے میں ایران سے بیلسٹک میزائل پروگرام معطل کرنے اور خطے میں اپنے حمایت یافتہ گروہوں کی مدد کم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے جبکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے تاکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل بحال ہو سکے۔
دوسری جانب اس کے بدلے میں امریکا کی جانب سے ایران پر عائد جوہری پابندیاں ختم کرنے اور سویلین جوہری پروگرام میں تعاون کی پیشکش کی گئی ہے۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکا نے یہ 15 نکاتی امن منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران کو بھجوایا تاہم پاکستان کے کردار سے متعلق تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا اس منصوبے پر پیش رفت کے لیے ایک ماہ کی جنگ بندی چاہتا ہے تاکہ دونوں فریقین کے درمیان تفصیلی مذاکرات ممکن ہو سکیں تاہم اس تجویز پر بھی کسی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔