وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں غیر ملکی کارگو کی ٹرانس شپمنٹ بڑھانے کے لیے حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر بحری امور نے بندرگاہوں پر سہولیات میں تیزی سے اضافہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو علاقائی ٹرانس شپمنٹ حب بنانے کے لیے کاروبار دوست ماحول ناگزیر ہے تاکہ خطے میں موجود تجارتی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی بندرگاہ پر ٹرانس شپمنٹ جہازوں کے لیے مالی مراعات متعارف کرا دی گئی ہیں جبکہ خشک بلک کارگو پر پورٹ چارجز میں 60 فیصد تک رعایت دی گئی ہے۔ ساتھ ہی کسٹمز اور ٹرمینل آپریٹرز کو چارجز میں توازن لانے کی ہدایت بھی کی گئی تاکہ کاروباری لاگت کم ہو سکے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بحری تجارت کے فروغ کے لیے طریقہ کار کو مزید آسان بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ عید کے دنوں میں بھی بندرگاہی آپریشن بلا تعطل جاری رہا، جس کے دوران تین روز میں 15 ہزار کنٹینرز اور 22 جہاز ہینڈل کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بندرگاہی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور پاکستان کو خطے کا اہم تجارتی مرکز بنانے کے لیے پرعزم ہے۔