امریکا اپنی شکست کو معاہدے کا نام دینے کی کوشش نہ کرے، ترجمان ایرانی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان

image

ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان کے ترجمان نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا ممکنہ معاہدے کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنی شکست کو معاہدے کا نام دینے کی کوشش نہ کرے۔

ترجمان نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ خطے میں امریکی سرمایہ کاری کے اب کوئی آثار باقی نہیں رہیں گے اور امریکا کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ خطے کا استحکام ایرانی افواج کی ضمانت سے وابستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک امریکا اس بات کا ادراک نہیں کر لیتا، توانائی کی قیمتیں اپنی پرانی سطح پر واپس نہیں آئیں گی۔

ایرانی فوجی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ استحکام صرف طاقت کے ذریعے ہی ممکن ہے اور ایران کی مرضی کے بغیر موجودہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

انہوں نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نہ تو اب اور نہ ہی مستقبل میں امریکا جیسے ممالک کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے گا، اور یہی ایران کا شروع سے اب تک کا حتمی فیصلہ ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں واشنگٹن کے ساتھ سفارتی رابطے تباہ کن ثابت ہوئے اور گزشتہ 9 ماہ میں مذاکرات کے دوران ایران پر دو مرتبہ حملے کیے گئے۔ بقائی نے امریکی رویے کو سفارتکاری کی خیانت قرار دیا۔

علاوہ ازیں انہوں نے تصدیق کی کہ ایران تنگہ ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات جاری تنازع کے سبب کیے گئے ہیں اور غیر جارح ملک اپنے جہازوں کی حفاظت کے لیے ایران کے ساتھ ہم آہنگی سے اس گذرگاہ کا استعمال کرسکتے ہیں۔

مزید برآں پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے بلواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات کی تردید کردی۔

اپنے بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ پاکستان جیسے دوست ممالک تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کی بنیاد ڈالنا چاہتے ہیں، امید ہے دوست ممالک کی کوششیں کامیاب ہوجائیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ دوست ممالک جارحیت کے خاتمے کے لیے فریقین سے رابطے میں رہتے ہیں، لیکن میری معلومات کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اب تک جنگ بندی کے حوالے سے بلواسطہ یا بلاواسطہ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US