وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے نیشنل گرڈ کمپنی (این جی سی) کی مقامی صنعت کے فروغ سے متعلق پالیسی کو ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تحت پاکستانی صنعتوں کو 12.673 ارب روپے کے معاہدے دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مقامی سطح پر تیار کردہ کنڈکٹرز کے استعمال سے درآمدی انحصار میں کمی اور لاگت میں تقریباً 40 فیصد تک بچت ممکن ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ٹھوس نتائج حکومت کی ان اصلاحات کا عکاس ہیں جن کا مقصد مقامی پیداوار کو فروغ دینا، درآمدات پر انحصار کم کرنا اور معیشت کے لیے فوائد فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پالیسی کے تحت مقامی صنعتوں کو ایجوکیشنل آرڈرز، بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے اور مقامی ذیلی اداروں کے قیام کے ذریعے بااختیار بنایا جا رہا ہے۔
سردار اویس احمد خان لغاری کے مطابق اب تک 900 ملین روپے مالیت کے 9 ایجوکیشنل آرڈرز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ 11 مقامی کمپنیوں کو استعداد کار بڑھانے کے لیے رجسٹر کیا گیا ہے، جس سے ملک کی صنعتی بنیاد مزید مضبوط ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے اثرات محض لاگت میں کمی تک محدود نہیں بلکہ زرمبادلہ کے تحفظ کے ذریعے مجموعی معاشی استحکام میں بھی مدد کر رہی ہیں۔ مقامی سطح پر تیار کردہ مواد کی بروقت فراہمی سے منصوبوں کی جلد تکمیل ممکن ہو رہی ہے، جس سے ملک بھر میں ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر کی ترقی میں بھی تیزی آ رہی ہے۔
آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مقامی پیداوار کا فروغ برآمدات پر مبنی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، خصوصاً اسٹیل، کیبل اور کنڈکٹر کے شعبوں میں جہاں مقامی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاور ڈویژن صنعتی خود کفالت اور پائیدار معاشی استحکام کے فروغ کے لیے ایسی پالیسیوں کی بھرپور سرپرستی جاری رکھے گا۔