ایران نے جنگ بندی کے لیے امریکا کی پیش کردہ تجاویز مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی شرائط کے بغیر کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا کی جانب سے دی گئی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاہم انہیں غیر مناسب قرار دے کر رد کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران کسی بھی صورت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور وہ اپنے دفاع کا حق برقرار رکھے گا۔
ایران نے علاقائی ثالث کے ذریعے امریکا کو پیغام دیا ہے کہ اس کی دفاعی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک اس کی بنیادی شرائط پوری نہیں ہوتیں۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ کے خاتمے کی پہلی شرط حملوں کا مکمل خاتمہ اور ایرانی عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ روکنا ہے۔
ایران نے جنگ بندی کے لیے پانچ اہم شرائط بھی پیش کی ہیں جن میں حملوں کا خاتمہ، جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنے کے لیے ٹھوس اور ضمانت شدہ اقدامات، ایران میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ اور ادائیگی کی یقین دہانی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ خطے میں مزاحمتی گروپوں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں اور آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کیا جائے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق امریکا کی جانب سے ایران کو 15 نکاتی تجاویز پیش کی گئی تھیں جن میں پابندیوں میں نرمی، ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو کھولنا اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی شامل تھی۔ تجاویز میں ایران اور امریکا کے درمیان سویلین جوہری تعاون بھی شامل تھا، تاہم ایران نے ان شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔