حیدر عباس رضوی نے سیاستدان سے ٹیکسی ڈرائیور بننے کی جذباتی کہانی شیئر کر دی

image

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی نے اپنی زندگی کے ایک مشکل دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حالات نے انہیں ٹیکسی چلانے پر مجبور کیا جو ان کے لیے ایک جذباتی اور منفرد تجربہ تھا۔

نجی چینل کے ایک پروگرام کے دوران حیدر عباس رضوی نے کہا کہ ماضی میں وہ ایک کمپنی میں ملازمت کیا کرتے تھے لیکن زندگی کے حالات نے ایسا موڑ لیا کہ نہ گھر رہا نہ رشتے اور نہ کوئی سہارا لیکن اس کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔

انہوں نے بتایا کہ جب پہلی بار ٹیکسی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو ایک عجیب سا احساس ہوا جیسے زندگی کا رخ اچانک بدل گیا ہو اور ڈر تھا کہ کہیں کوئی پاکستانی انہیں ٹیکسی چلانے کے دوران پہچان نہ لے۔

حیدر عباس رضوی نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا کہ ان کی پہلی مسافر ایک پاکستانی طالبہ تھی جو یونیورسٹی آف ٹورنٹو جا رہی تھی۔ گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ وہ سیاسیات میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے جس سے وہ اور زیادہ پریشان ہو گئے کہ شاید وہ انہیں پہچان لے۔ تاہم طالبہ نے واقعی انہیں پہچان لیا اور اپنی خوشی کا اظہار کیا اور بتایا کہ ان کے والدین بھی حیدر عباس رضوی کے مداح ہیں۔

رہنما نے کہا کہ اس طرح کے چھوٹے مثبت تجربات نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور مشکل صورتحال کو قبول کرنے میں مدد دی۔ انہوں نے ناظرین کو یہ پیغام بھی دیا کہ زندگی میں چھوٹے چھوٹے مثبت رویے کسی کے لیے بہت بڑا فرق پیدا کر سکتے ہیں اس لیے کسی اچھے عمل کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US