ایوان بالا (سینیٹ) نے پارلیمانی سال 26-2025 کی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں قانون سازی، حکومتی جوابدہی اور پارلیمانی سفارتکاری میں نمایاں کامیابیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں 12 مارچ 2025 سے 11 مارچ 2026 تک کی ایوان بالا کی کارکردگی کو اجاگر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پارلیمانی سال کے دوران 12 اجلاس اور تین مشترکہ اجلاس منعقد ہوئے جن میں 112 دنوں میں 64 نشستیں ہوئیں جن کا مجموعی دورانیہ 158 گھنٹے 53 منٹ رہا۔ مشترکہ اجلاسوں سمیت مجموعی پارلیمانی سرگرمیوں کا دورانیہ 161 گھنٹے 43 منٹ رہا۔ سب سے زیادہ حاضری 355 ویں اجلاس میں ریکارڈ کی گئی، جبکہ فی نشست اوسط حاضری 55 سینیٹرز رہی۔
سینیٹ نے قانون سازی کے میدان میں بھی فعال کردار ادا کیا۔ حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے 17 بلوں میں سے 14 منظور ہوئے، جبکہ قومی اسمبلی سے موصولہ 31 بلوں پر غور کے بعد مجموعی طور پر 33 بل منظور کیے گئے۔ نجی اراکین نے بھی 40 بل پیش کیے، جن میں آئینی ترمیم (ستائیسویں ترمیم) شامل تھی۔
سینیٹ نے سوال و جواب کے نظام کے ذریعے حکومتی نگرانی کو مؤثر بنایا اور 1,157 نشاندار سوالات موصول ہوئے جن میں سے 479 کے جوابات ایوان میں دیے گئے۔ 85 قراردادیں پیش کی گئیں، جن میں سے 19 منظور ہوئیں جبکہ 15 متفقہ طور پر منظور ہوئیں۔
مزید برآں 38 قائمہ اور فنکشنل کمیٹیوں نے 346 اجلاس منعقد کیے جن کا مجموعی دورانیہ 780 گھنٹے سے زائد رہا اور ایوان میں 106 رپورٹس پیش کیں۔ کمیٹیوں نے قانون سازی کے جائزے، بجٹ کی چھان بین اور حکومتی کارکردگی کی نگرانی میں مرکزی کردار ادا کیا، خاص طور پر خزانہ و محصولات، اقتصادی امور اور داخلہ کمیٹیوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔
پارلیمانی سال 26-2025 عالمی روابط کے فروغ کے حوالے سے بھی تاریخی رہا۔ سینیٹ نے 37 پارلیمانی وفود کی میزبانی و شرکت کی اور 43 دوطرفہ سفارتی ملاقاتیں کیں، جبکہ اسلام آباد میں پہلی بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کا انعقاد بھی ہوا، جس میں 33 ممالک کے 153 مندوبین نے حصہ لیا اور امن، سلامتی اور ترقی کے موضوع پر غور کیا۔
رپورٹ میں سینیٹ کے مؤثر قانون سازی، سخت نگرانی اور فعال عالمی روابط کو غیر معمولی کامیابی قرار دیا گیا ہے اور اس میں پاکستان کے عوام اور وفاق کی خدمت کے لیے مستقبل میں جاری کوششوں کا بھی اعادہ کیا گیا ہے۔