سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے وزارتِ تجارت اور اس کے ماتحت اداروں کے بجٹ تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے کوئٹہ میں مجوزہ ایکسپو سینٹر کے مقام پر ایک بار پھر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یہ اجلاس سینیٹر انوشہ رحمٰن کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سرمد علی، بلال احمد خان اور فیصل سلیم رحمٰن نے شرکت کی، جبکہ سینیٹر راحت جمالی اور امیر ولی الدین چشتی نے زوم کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔
کمیٹی نے سیکیورٹی خدشات اور منصوبے کی افادیت کے پیشِ نظر ایکسپو سینٹر کے مجوزہ مقام کی منتقلی سے متعلق اپنی سابقہ سفارشات پر دوبارہ زور دیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزارتِ تجارت اس معاملے پر چیف سیکرٹری بلوچستان سے رابطے میں ہے اور اس ہفتے کے آخر میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
تاہم، کمیٹی نے اپنی تشویش برقرار رکھتے ہوئے سفارش کی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا جائے، جس میں کمیٹی کے تحفظات اور مقام کی منتقلی کی سفارش شامل ہو، جبکہ انہیں آئندہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی جائے۔
کمیٹی نے وزارتِ تجارت کے بجٹ کی متفقہ منظوری دے دی، تاہم اس شرط کے ساتھ کہ کوئٹہ ایکسپو سینٹر کی منتقلی کے معاملے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔
اجلاس میں کمیٹی کو اس کے سابقہ سفارش کردہ منصوبے “ایکسپورٹ ایکسلریٹر فار ایس ایم ایز” پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزارت نے بتایا کہ یہ معاملہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ (EDF) بورڈ کے آئندہ اجلاس میں غور کے لیے پیش کیا جائے گا۔
سیکریٹری وزارتِ تجارت نے کمیٹی کو وزارت کے مختلف شعبہ جات کے بجٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کی سالانہ نمائشیں، پروگرامز اور دیگر سرگرمیاں زیادہ تر EDF کے ذریعے فنڈ ہوتی رہی ہیں، تاہم رواں سال سے یہ اخراجات وفاقی حکومت کی بجٹ مختص رقم کے تحت TDAP خود برداشت کرے گی۔
اس موقع پر کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ آئندہ مالی سال کے لیے بھی TDAP کے مجوزہ ایکسپو پروگرامز کی فنڈنگ EDF جاری رکھے۔
کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ سیکرٹری تجارت اور TDAP اپریل 2026 تک ریشنلائزڈ سالانہ بزنس پلان TDAP بورڈ کے سامنے پیش کریں، جسے بعد ازاں مئی 2026 میں EDF بورڈ کے سامنے منظوری کے لیے رکھا جائے گا۔
کمیٹی کے مطابق جن تقریبات یا نمائشوں کی EDF فنڈنگ منظور نہ ہو، ان کے بارے میں یہ تصور کیا جائے گا کہ وہ شاید ترجیحی یا مؤثر نہ ہوں، الا یہ کہ TDAP بورڈ ان پر خصوصی اصرار کرے، جس صورت میں ان کے لیے محدود بجٹ مختص کیا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں ٹریڈ مشنز کی تشکیل کے معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ کمیٹی نے زور دیا کہ ٹریڈ مشنز کو اولین ترجیح میں مکمل طور پر ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ آفیسرز (TIOs) پر مشتمل ہونا چاہیے، جو کامرس اینڈ ٹریڈ گروپ (CTG) سے تعلق رکھتے ہوں، تاکہ ادارہ جاتی مہارت اور پالیسی مقاصد میں ہم آہنگی برقرار رہے۔
کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ نان-CTG افسران یا نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو صرف اسی صورت میں دوسرے مرحلے میں شامل کیا جائے، جب CTG کیڈر سے موزوں اور اہل امیدوار دستیاب نہ ہوں۔