چین سے تعلق رکھنے والے 82 سالہ چِن اکونگ اپنی اہلیہ کی آئی سی یو میں نگہداشت کے لیے مہینوں تک روزانہ آدھے دن کا سفر طے کرتے تھے جس نے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے دل جیت لیے۔
چِن اکونگ اور ان کی اہلیہ شوئی کی شادی کو 50 سال سے زائد عرصہ ہو چکا تھا۔ ایک سال قبل شوئی کو فالج اور نمونیا کے حملے کے بعد قریبی اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری رہا۔
چِن اکونگ 105 دن تک صبح ساڑھے 4 بجے اٹھ کر کھانا تیار کرتے پھر گھر سے نکل کر بس میں سوار ہوتے اور اسپتال پہنچتے، جہاں آئی سی یو میں مریضوں سے ملنے کا وقت صبح ساڑھے 10 سے 11 بجے تک کا ہے، اس دوران وہ اپنی بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کا اظہار کرتے اور اس کا خیال رکھتے۔
۔اس کے بعد چِن اکونگ اسپتال کی راہداری میں وقت گزارتے اور دوپہر کو ایک بار پھر اپنے گھر واپس لوٹ جاتے۔
چِن اکونگ کی محبت کو دیکھ اسپتال کی جانب سے بھی ملاقات کے اوقات کو ایڈجسٹ کیا گیا، بسوں میں بھی ان سے کرایہ نہیں لیا جاتا تھا جبکہ کچھ نیک دل افراد نے بھی ان کی مدد کے لیے ایک لاکھ 40 ہزار یوآن سے زائد رقم عطیہ کی۔
ایک سال کے دوران انہوں نے ایک لاکھ یوآن سے زائد رقم بیوی کے علاج پر خرچ کی جو انہوں نے برسوں محنت کرکے جمع کی تھی۔ان کے بیٹے نے بھی اپنا گھر فروخت کر دیا تاکہ ماں کے طبی اخراجات کو پورا کیا جاسکے۔
13 مارچ کو چِن اکونگ اپنی اہلیہ کے آخری لمحات میں ان کا ہاتھ تھامے رہے اور ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود شوئی کا انتقال ہو گیا۔ اس موقع پر چِن اکونگ نے کہا میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے یہ بہت تکلیف دہ ہے مگر میں بیوی کی قبر پر ہمیشہ جاوں گا۔ وہ دنیا کی سب سے اچھی بیوی تھی۔
چِن اکونگ کی قربانی اور محبت نے نہ صرف ان کی مقامی کمیونٹی بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں کو چھو لیا ہے۔