ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے، جنگ بندی اور پرامن حل کے لیے فعال سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ کے آغاز میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیج فارس میں تشدد اور مسلح حملوں کی صورتحال اب پانچویں ہفتے میں داخل ہوچکی ہے، جس پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف خطے میں مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار بھی علاقائی اور عالمی رہنماؤں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے 23 مارچ کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی گفتگو کی، جس میں خلیجی صورتحال، کشیدگی میں کمی، مکالمے اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کویت، ترکیہ، اردن، آذربائیجان، ملائیشیا، ازبکستان، مصر، بنگلہ دیش، لبنان، بحرین اور انڈونیشیا کی قیادت سے بھی اہم ٹیلیفونک رابطے کیے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی سعودی عرب، آذربائیجان، ترکیہ، مصر، عراق، ایران، متحدہ عرب امارات، یورپی یونین اور ملائیشیا کے وزرائے خارجہ سے مشاورت کی۔
انہوں نے بتایا کہ 18 مارچ کو اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں علاقائی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی شرکت کی، جہاں خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ 15 مارچ کو دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منایا گیا، اور پاکستان نے او آئی سی کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ سے اس دن کو عالمی سطح پر تسلیم کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا بھر میں مسلمانوں، مساجد، مسلم خواتین اور مذہبی شعائر کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت انگیز واقعات پر شدید تشویش رکھتا ہے، اور عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ برداشت، احترام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کی مسلسل بندش کی بھی شدید مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کے بعد مسلسل ساتویں سال بھی کشمیری مسلمانوں کو اس مقدس مقام پر اجتماعی عبادت سے روکے رکھا، جو مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
دفتر خارجہ نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔