سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات نے متعدد اہم قانون سازی تجاویز پر غور کرتے ہوئے کئی بلز کی منظوری دے دی جبکہ پارلیمنٹ لاجز کی خستہ حالی، سیکیورٹی، صفائی اور غیرقانونی قابضین کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
یہ اجلاس سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں سینیٹرز، وزارتِ داخلہ، سی ڈی اے، نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔
کمیٹی نے اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2026 پر غور کیا، تاہم سی ڈی اے نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد میں پبلک ٹرانسپورٹ کے انتظام کے لیے ادارے کے پاس پہلے ہی ایک الگ اور بااختیار ونگ موجود ہے، اس لیے نئی ریگولیٹری اتھارٹی کی ضرورت نہیں۔
وزارتِ داخلہ، سی ڈی اے اور وزارتِ قانون و انصاف کی یقین دہانی کے بعد چیئرمین کمیٹی نے بل پر مزید غور مؤخر کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو باہمی مشاورت سے اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ہدایت کر دی۔
اجلاس میں پاکستان پینل کوڈ (ترمیمی) بل 2026 کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے اعتراض نہ آنے پر متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اسی طرح آرڈیننسِ زنا (نفاذِ حدود) ترمیمی بل 2026 بھی تفصیلی غور کے بعد متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
کمیٹی نے اسلام آباد رئیل اسٹیٹ (ریگولیشن اینڈ ڈیولپمنٹ) ترمیمی بل 2026 پر بھی غور کیا۔ اراکین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ دونوں ایوانوں سے منظوری کے باوجود اس معاملے میں پیش رفت سست ہے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ قوانین میں ممکنہ اوورلیپ سے بچنے کے لیے حکومتی سطح پر جائزہ جاری ہے، جبکہ وفاقی وزیرِ قانون و انصاف کی سربراہی میں اجلاس بھی طلب کیا جا چکا ہے۔ کمیٹی نے وزارتِ داخلہ کو ہدایت کی کہ اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے۔
اجلاس میں نادرا ترمیمی بل 2026 بھی متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
کمیٹی نے پارلیمنٹ لاجز سے متعلق معاملات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ اراکین نے سیکیورٹی کے ناقص انتظامات، صفائی کی خراب صورتحال، بنیادی عملے کی کمی اور عمارتوں کی خستہ حالی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ خاطر خواہ بجٹ مختص ہونے کے باوجود مناسب دیکھ بھال کیوں نہیں کی جا رہی۔
سی ڈی اے حکام نے کمیٹی کو موجودہ مسائل اور ممکنہ حل سے آگاہ کیا، جبکہ بتایا گیا کہ نئے پارلیمنٹ لاجز کی تعمیر جولائی 2026 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ اگلے اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز کی مرمت، دیکھ بھال اور سیکیورٹی سے متعلق تفصیلی رپورٹ اور سفارشات پیش کی جائیں۔ انہوں نے ایم این اے ہاسٹل اور پارلیمنٹ لاجز میں نادہندگان اور غیرقانونی قابضین کے خلاف سخت کارروائی کی بھی سفارش کی۔
اجلاس میں گاڑیوں کے کالے یا ٹِنٹڈ شیشوں کے معاملے پر بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ان پر پابندی ان کے غلط استعمال کے باعث عائد کی گئی تھی۔ اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے فیس کی بنیاد پر ٹِنٹڈ شیشوں کی اجازت دینے کی تجویز دی اور سفارش کی کہ پارلیمنٹیرینز اور سفارت کاروں کو اس پابندی سے استثنا دیا جائے۔
کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسلحہ لائسنس پالیسی اس وقت وفاقی کابینہ کے زیرِ غور ہے اور اس حوالے سے جلد فیصلہ سامنے آئے گا۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا پولیس نے مردان میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق پولیس ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر کے خلاف کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں کر رہی ہے، جبکہ آئس سمیت منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف بھی مؤثر آپریشن جاری ہیں۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پولیس جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً نگرانی کے لیے ڈرونز کا استعمال بھی بڑھا رہی ہے۔ اراکین نے بین الصوبائی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن فورس قرار دیا۔ چیئرمین کمیٹی نے ہدایت کی کہ پولیس فورس کے لیے باقاعدہ تعریفی مراسلہ جاری کیا جائے، جبکہ وزارتِ داخلہ اور صوبائی حکومت کو جدید وسائل اور ٹیکنالوجی سے مزید تقویت دینے کی سفارش بھی کی گئی۔
کمیٹی نے مجرموں کے شناختی کارڈ بلاک کرنے کے طریقہ کار پر بھی بریفنگ لی۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت عدالتی احکامات کے بغیر شناختی کارڈ فوری طور پر بلاک نہیں کیے جا سکتے۔
اجلاس کے دوران بعض اراکین نے تشویش ظاہر کی کہ کچھ افغان شہریوں کے پاس مبینہ طور پر اب بھی پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہیں، جبکہ بعض پاکستانی شہریوں کے شناختی کارڈ غلط طور پر افغان قرار دے کر بلاک کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اس معاملے کا مکمل جائزہ لے کر فوری حل نکالا جائے۔
اجلاس میں مالاکنڈ اور چترال کی سیکیورٹی صورتحال پر بحث بھی شیڈول تھی، تاہم متعلقہ محرک کی عدم موجودگی کے باعث یہ معاملہ مؤخر کردیا گیا۔