ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایران میں جاری جنگی صورتحال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں بہنے والے آنسو دنیا کے کسی بھی حصے میں بہنے والے مسلمانوں کے آنسوؤں سے مختلف نہیں ہیں۔
انقرہ میں حکمران جماعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اردوان نے اسرائیلی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے نفرت پر مبنی ایسا نیٹ ورک قرار دیا جو خطے کو موجودہ صدی کے بدترین بحران کی طرف دھکیل رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اصفہان، تبریز اور تہران میں ہونے والے جانی نقصان اور دیگر شہروں جیسے اربیل، بغداد، بیروت، صنعاء، دوحہ اور ریاض میں ہونے والے نقصانات میں کوئی فرق نہیں کیونکہ ہر حملے کا اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ صدر اردوان نے واضح کیا کہ اس جنگ میں مسلک، نسل یا قومیت کی کوئی تمیز نہیں رہی اور ہر حملہ مشترکہ نقصان کا سبب بن رہا ہے۔
ترک صدر نے مزید کہا کہ اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں نے پورے خطے کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے اور یہ جنگ صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ترکی اپنے برادر ممالک کو مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑے گا اور ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا۔
ترک صدر نے مسجد اقصیٰ میں عبادات پر پابندی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ 1967 کے بعد پہلی بار عید کی نماز کی ادائیگی کو روکنا دنیا بھر کے مسلمانوں کے عقیدے کی توہین ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسجد اقصیٰ میں عبادت کا حق کسی بھی صورت میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔