حکومت سندھ کا بدعنوانی خاتمے کے لیے انقلابی گندم پالیسی کا اعلان

image

حکومت سندھ نے ہاریوں کی خوشحالی اور گندم کی خریداری میں شفافیت لانے کے لیے ایک انقلابی گندم پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد براہِ راست کاشتکاروں کو فائدہ پہنچانا اور بدعنوانی کا خاتمہ ہے۔

صوبائی وزیر خوراک مخدوم محبوب زمان نے جام خان شورو اور گیان چند ایسرانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس سال گندم کی خریداری یکم اپریل سے شروع ہوگی جس کے لیے 3500 روپے فی من امدادی قیمت مقرر کی گئی ہے۔

اس مرتبہ باردانہ صرف ان ہاریوں کو دیا جائے گا جو 'ہاری کارڈ' پر رجسٹرڈ ہوں گے، تاکہ مڈل مین کا کردار ختم ہو اور حقدار کو اس کا حق مل سکے۔ حکومت نے گندم کے تھیلوں کی مد میں بھی مراعات کا اعلان کیا ہے جہاں 50 کلو کے بیگ پر 50 روپے اور 100 کلو کے بیگ پر 100 روپے دیے جائیں گے، جبکہ تمام ادائیگیاں سندھ بینک کے ذریعے براہِ راست ہاریوں کو منتقل کی جائیں گی۔

سندھ حکومت نے گندم ریلیز پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اب تک ایک ملین میٹرک ٹن گندم جاری کی ہے جو کل ذخیرے کا 80 فیصد بنتا ہے، تاہم اس وقت مزید ریلیز پر پابندی عائد ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران صوبائی وزیر جام خان شورو نے گندم کی چوری سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ سندھ حکومت نے گندم مشکل وقت کے لیے محفوظ کی تھی جو رمضان کے دوران عوام کو ریلیف دینے کے لیے جاری کی گئی اور اب بھی 2 لاکھ ٹن کا ذخیرہ موجود ہے۔

جام خان شورو نے مزید کہا کہ اگر حکومت گندم کی خریداری اور ذخیرہ اندوزی نہ کرے تو مارکیٹ میں آٹا 300 روپے کلو تک جا سکتا ہے، لہٰذا یہ حکومتی ہتھیار ہے جسے قیمتیں کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں سالانہ 43 لاکھ ٹن گندم کاشت کی جاتی ہے اور بارشوں کے بعد آبادگاروں کو اربوں روپے کی سبسڈی بھی دی گئی تھی۔ نظام کو مزید جدید بنانے کے لیے محکمہ خوراک اور زراعت کی مشترکہ ویب سائٹ بھی بنائی جائے گی تاکہ ڈیٹا تک رسائی اور خریداری کا عمل مکمل طور پر شفاف رہے۔

انھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی اس پالیسی کا محور عام ہاری کی مالی معاونت اور صوبے میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے، جس کے لیے 84 ارب روپے کی خطیر رقم بطور سبسڈی دی جا رہی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US