ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب فیصل کامران نے پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کے سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایونٹ کی حفاظت کے لیے مجموعی طور پر 5 ہزار 100 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
ان انتظامات میں کوئیک ریسپانس ٹیمیں، روٹ ڈیوٹی، ٹیموں کی آمد و رفت اور ہوٹل تک بحفاظت پہنچانے کے امور شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیموں کے پریکٹس سیشنز کی وجہ سے دن کے مختلف اوقات میں موومنٹ ہوتی ہے، جس کے دوران سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات یقینی بنائے جاتے ہیں۔
فیصل کامران کا کہنا تھا کہ بظاہر شائقین کی عدم موجودگی سے کام آسان لگتا ہے مگر سیکیورٹی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی، روٹس پر سیف سٹی کے اضافی کیمرے نصب کیے گئے ہیں اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے بھی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹیڈیم کے اطراف میں کسی بھی گاڑی کو بغیر چیکنگ داخلے کی اجازت نہیں ہے اور متعلقہ گاڑیوں کے لیے بھی ایک مخصوص طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ اس ایونٹ کو پوری دنیا دیکھ رہی ہے، اس لیے بہترین سیکیورٹی فراہم کرنا ترجیح ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے اہلکاروں کو ہدایت کی کہ ان کا پہلا کام ڈیوٹی انجام دینا ہے اور میچ دیکھنا ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود بھی گراؤنڈ میں میچ نہیں دیکھتے تاکہ اہلکار یہ نہ سوچیں کہ کمانڈ میچ دیکھ رہی ہے اور وہ ڈیوٹی پر ہیں، جبکہ ایس ایس پی، ایس پی اور ایس ایچ او سے لے کر سپاہی تک تمام افسران فیلڈ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔