وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے بتایا کہ انہیں پیٹرول پر 95 روپے اور ڈیزل پر 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم انہوں نے یہ تجویز مسترد کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس ہفتے مزید 56 ارب روپے کا بوجھ خود برداشت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ عوام کو مہنگائی سے بچایا جا سکے۔
وزیراعظم کے مطابق عالمی قیمتوں کے تناظر میں پیٹرول کی قیمت 544 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 790 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی، مگر حکومت عوام کو پیٹرول 322 روپے اور ڈیزل 335 روپے فی لیٹر میں فراہم کر رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کا معاشی تحفظ ہے اور عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باوجود مہنگائی کا بوجھ عوام تک منتقل نہیں ہونے دیا جا رہا۔
خطاب میں انہوں نے خطے کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے سفارتی سطح پر متحرک ہے اور اس سلسلے میں مختلف ممالک سے مسلسل رابطے کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دو محاذوں پر کامیابی سے کام کر رہا ہے تاکہ خطہ کسی بڑی تباہ کن جنگ سے محفوظ رہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے ایران اور خلیجی ممالک کے رہنماؤں سے تفصیلی بات چیت کی ہے اور پاکستان کی یہ کوششیں محض سفارتی نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہیں۔