امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہماری فوج نے بہترین کام کیا ہے اور ایران ڈیل کے لیے بات چیت کا عمل جاری ہے۔ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں مزید کہا کہ اگر وہ صدر منتخب نہ ہوتے تو امریکا اب تک سنگین حالات سے دوچار ہو چکا ہوتا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں دنیا کے خطرناک افراد کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی جبکہ اب امریکی حکمت عملی میں ایسے جرائم کرنے والوں پر سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ مڈنائٹ ہیمر آپریشن کے باوجود ایران نے ایٹمی صلاحیت پر کام جاری رکھا اور اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ اسرائیل کے خلاف استعمال کر سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے سعودی عرب، بحرین، قطر اور کویت پر میزائل حملے کیے، لیکن اب ایران کبھی بحری جنگی جہاز نہیں بنا سکے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خطرے کو ختم کیا جا رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں ایران کی 47 سالہ جارحیت کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب مشرق وسطیٰ میں کوئی ایران سے خوفزدہ نہیں اور خطے کے ممالک اب ایران کے کسی بھی ممکنہ حملے سے محفوظ ہیں۔
ٹرمپ نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو نے امریکا کی مدد نہیں کی جبکہ سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور بحرین نے امریکی مدد کی اور لڑے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد کو اپنا دوست اور جنگجو قرار دیتے ہوئے خطے کے ممالک کی قیادت کی تعریف کی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فرانس میں جی سیون وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ ایران میں زمینی فوج اتارے بغیر بھی اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے اور ایران میں جنگ مہینوں میں نہیں بلکہ ہفتوں میں ختم ہونے کی توقع ہے۔