حیدر آباد کنگز مین کے ہیڈ کوچ جیسن گیلسپی نے پی ایس ایل کی تیاریوں اور کھلاڑیوں کی کارکردگی پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ تیاری اچھی جا رہی ہے اور کھلاڑیوں کی ورکنگ شاندار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب پر فخر ہے کیونکہ ہر کھلاڑی نے سخت محنت کی ہے۔
گیلسپی نے پی سی بی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پی ایس ایل کے لیے اکٹھا ہونے کی ٹائمنگ بہترین تھی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ گلین میکسویل جلد ٹیم میں شامل ہوں گے، تاہم ان کی آمد کے بارے میں حتمی اطلاع ابھی نہیں دے سکتے۔
ہیڈ کوچ نے واضح کیا کہ پی سی بی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ٹیسٹ کوچ کے عہدے کا معاملہ اچھے انداز میں ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صائم ایوب کا رول واضح ہے اور وہ عمدہ پلئیر ہیں، اور توقع ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی دکھائیں گے۔ معاذ صداقت ٹریننگ کر رہے ہیں اور امید ہے کہ وہ کل کے میچ کے لیے دستیاب ہوں گے۔
گیلسپی نے بتایا کہ کوئٹہ کے خلاف میچ کے لیے بہترین کمبی نیشن ترتیب دینے کی کوشش کریں گے تاہم ابھی صرف ایک میچ ہوا ہے، اس لیے کمبی نیشن بنانے میں تھوڑا وقت درکار ہے۔
انہوں نے کھلاڑیوں کی فارمیٹ ترجیحات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر فاسٹ باؤلرز اپنے کریئر کو لمبا کرنے کے لیے ٹیسٹ کی بجائے شارٹ فارمیٹ پر فوکس کر رہے ہیں، جبکہ کچھ کھلاڑی اس کے برعکس 50 اوورز کی کرکٹ پر ٹیسٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔ گیلسپی نے کہا کہ تینوں فارمیٹس کھیلنا فاسٹ باؤلرز کے لیے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ہیڈ کوچ نے زور دیا کہ کھلاڑی، بورڈ، کوچز اور فرنچائزز کے درمیان بہتر رابطہ ہونا چاہیے تاکہ اس مسئلے کا مناسب حل نکل سکے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں روایتی ٹیسٹ کرکٹ پسند ہے، لیکن انٹرنیشنل کیلنڈر میں زیادہ میچز اور ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹس سنبھالنا چیلنجنگ ہو گیا ہے اور ہر کھلاڑی کے لیے تمام فارمیٹس کھیلنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔