ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کے خدشات کے خلاف امریکا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بڑے پیمانے پر “نو کنگز” کے نام سے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز امریکا کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہروں میں 70 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی، جہاں مظاہرین نے جنگ بندی، کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کا مطالبہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ایران کے خلاف ممکنہ جنگی اقدامات کو مسترد کردیا۔
نیویارک میں منعقدہ ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ ہالی وڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے صدر ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ "ٹرمپ اپنے غلط اقدامات کانگریس اور اپنے عملے کی ملی بھگت کے بغیر نہیں کرسکتا، اور کرپٹ رہنماؤں کو خود کو مزید مالدار بنانے سے روکا جانا چاہیے۔"
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اتوار کے روز بھی امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں 3 ہزار 200 سے زائد احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں۔
مظاہرین کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ان احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والوں کی تعداد امریکی تاریخ کے بڑے عوامی احتجاجوں میں شامل ہوسکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے نہ صرف ایران کے خلاف ممکنہ جنگی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل ہیں بلکہ یہ ٹرمپ انتظامیہ کے طرز حکمرانی پر بھی ایک واضح عوامی عدم اعتماد کا اظہار ہیں۔