وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت آج خطے کی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملکی پیٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد، سپلائی چین کی نگرانی، اور عوامی ریلیف کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی بروقت اقدامات کے نتیجے میں ملک میں پیٹرول کی مناسب مقدار دستیاب ہے اور عوام کو عالمی کشیدگی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پچھلے تین ہفتوں میں جتنی ممکن ہو سکی ریلیف فراہم کی گئی۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے 125 ارب روپے کی خطیر رقم بچت اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتیوں کے ذریعے فراہم کی تاکہ عوام عالمی سطح پر کشیدگی کے براہ راست اثرات سے محفوظ رہیں۔
اجلاس میں عوام سے گزارش کی گئی کہ وہ بچت مہم میں حکومت کا ساتھ دیں، غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں اور دفاتر و کام کی جگہوں پر ٹیلی کانفرینسنگ کو ترجیح دیں۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کی رجسٹریشن ان کے اپنے نام کروانے کے لیے تمام سہولیات فراہم کریں تاکہ ملک بھر کا ڈیٹا ڈیجیٹائز ہو اور مالکان حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مستقبل کے ریلیف سے مستفید ہو سکیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اپریل کے لیے پیٹرول کی درآمد کا انتظام مکمل ہو چکا ہے اور دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے نہ تو لمبی قطاریں ہیں اور نہ ہی بد انتظامی، جو حکومت کی بہترین انتظام کاری کا ثبوت ہے۔ اجلاس میں موٹر سائیکل سواروں اور رکشہ چلانے والوں کے لیے مجوزہ فیول سپورٹ پروگرام کی ایپ پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، عطاء اللہ تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ، اویس خان لغاری، معاون خصوصی طارق باجوہ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔