وفاقی حکومت نے بیرونِ ملک موجود پاکستانیوں کی دولت کو دوبارہ ملک میں لانے کیلیے نئی تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت ایسے اقدامات پر کام کر رہی ہے جن کے ذریعے بیرونِ ملک رکھی گئی رقوم کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکام روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر غور کر رہے ہیں، جو اس وقت صرف اوورسیز پاکستانیوں تک محدود ہے۔ نئی تجویز کے تحت اس اسکیم میں غیر ملکی کمپنیوں اور پاکستان میں مقیم شہریوں کو بھی شامل کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
ذرائع کے مطابق اندازہ ہے کہ پاکستانیوں کے تقریباً 20 ارب ڈالر مختلف ممالک، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور دیگر خطوں میں موجود ہیں۔ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران نیو پاکستان سرٹیفکیٹس کے تحت 1.76 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں بیرونِ ملک موجود پاکستانی سرمائے کو وطن واپس لانے کیلیے مختلف آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ملکی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ زیر غور تجاویز میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری پر اوورسیز پاکستانیوں کو ٹیکس مراعات دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس منصوبے کے تحت جائیداد کی مالیت پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم یہ سہولت نان فائلرز اور غیر ظاہر شدہ اثاثوں کے حامل افراد کیلیے دستیاب نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق یہ اسکیم آئندہ بجٹ میں متعارف کرائی جا سکتی ہے، تاہم امکان ہے کہ حکومت اسے بجٹ سے پہلے بھی نافذ کرنے پر غور کر سکتی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم نے بھی رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو فعال بنانے اور سرمایہ کاری بڑھانے سے متعلق اقدامات پر اہم اجلاس منعقد کیے ہیں۔