کراچی: کلفٹن میں نجی سپر اسٹور میں لگی آگ پر تاحال قابو نہ پایا جاسکا

image

شہر قائد کے علاقے کلفٹن کی زم زمہ اسٹریٹ پر واقع سپر اسٹور میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث علاقے میں بھگدڑ مچ گئی جبکہ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔

فائر بریگیڈ حکام کے مطابق آگ بجھانے کے عمل میں 6 گاڑیایوں نے حصہ لیا، تاہم بیسمنٹ میں شدید دھویں اور اندھیرے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ بیسمنٹ سے شروع ہو کر گراؤنڈ فلور تک پھیل گئی، جس پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ بیسمنٹ تک رسائی کے لیے دروازوں کو کٹر کے ذریعے کاٹا گیا تاکہ اندر موجود کسی بھی ممکنہ شخص تک پہنچا جا سکے۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کو صبح 6 بجے آگ کی اطلاع ملی، جس کے بعد صدر اسٹیشن سے فوری طور پر گاڑیاں روانہ کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر بیسمنٹ میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں گراؤنڈ فلور پر مختلف مقامات پر دوبارہ آگ بھڑک اٹھی۔

ان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آگ اے ٹی ایم سے شروع ہوئی جبکہ فالس سیلنگ کے باعث آگ تیزی سے پھیل گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عمارت میں دھواں خارج ہونے کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے دھواں اندر ہی جمع ہوتا گیا، جس سے ریسکیو آپریشن متاثر ہوا۔

حکام کے مطابق واقعے کی وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں جبکہ ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے۔ دوسری جانب اسٹور کے باہر سے ایک مشکوک شخص کو بھی حراست میں لے کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔

واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کلفٹن ڈیفنس کے صدر عبدالرحمان نے ویب نیوزکو بتایا کہ جب آگ لگی تو پہلے اسے انتظامیہ نے اندرونی سطح پر اپنی مدد آپ کے تحت بجھانے کی کوشش کی، لیکن جب شعلے بے قابو ہوئے تو فائر بریگیڈ کو طلب کیا گیا۔ اس تاخیر نے آگ کو پوری عمارت میں پھیلنے کا موقع دیا جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کا سامان راکھ کا ڈھیر بن چکا ہے۔

دوسری جانب فائر فائٹرز کے انچارج ہمایوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میگا مارٹ میں آگ بجھانے کے جدید آلات اور حفاظتی انتظامات کا مکمل فقدان تھا، جو کہ کسی بھی تجارتی مرکز کے لیے قانونی طور پر لازمی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عموماً جب آگ حد سے بڑھ جاتی ہے تب ہی فائر فائٹرز کو بلایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے جانی نقصان تو بچ گیا لیکن بڑے پیمانے پر مالی نقصان ناگزیر ہو گیا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US