ماڈل کرمنل کورٹ نے ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کے آٹھ سال پرانے مقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کر دیا۔
وکیل صلاح الدین پنہور کے مطابق عدالت نے کیس میں شامل تمام ملزمان کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کیا۔ انہوں نے کہا کہ دن دہاڑے تین افراد کا قتل ہوا اور کیس میں گواہان اور میڈیکل شواہد بھی موجود تھے، اس کے باوجود فیصلہ حیران کن ہے۔وکیل کا کہنا تھا کہ فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس مقدمے میں دو ارکان سندھ اسمبلی سمیت مجموعی طور پر 8 ملزمان نامزد تھے جن میں سے چار جیل میں جبکہ چار ضمانت پر تھے۔
فیصلے کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، ڈی ایس پیز سمیت 450 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ جوڈیشل کمپلیکس اور ام رباب چانڈیو کے گھر کے اطراف بھی سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی۔واضح رہے کہ عدالت نے گزشتہ سماعت میں دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا۔
ملزمان کو باعزت بری کرنے کے فیصلے کے بعد امِ رباب چانڈیو نے اپنا ویڈیو بیان جاری کیا ہے۔امِ رباب چانڈیو نے کہا کہ آج میرے والد، چچا اور دادا کے قاتل ملزمان کو عدالت نے بری کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سردار چاہتے ہیں کہ وہ مجھے ڈرا ہوا اور روتا ہوا دیکھیں، مگر یہ حسرت کبھی پوری نہیں ہو گی۔
انہوں نے اپنے حوصلے بلند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گی اور عدالتی فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ امِ رباب نے واضح کیا کہ انصاف ان کا حق ہے اور وہ اسے حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی۔