کرکٹ ماہرین اور شائقین نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں لگاتار ایک ہی پچ پر چار میچز کروائے گئے جس کی وجہ سے بیٹسمینوں اور بالرز دونوں کو کھیلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اتوار کی رات لاہور قلندرز اور کراچی کنگز کے درمیان کھیلے گئے میچ میں لاہور قلندرز نے نائن وکٹس پر 128 رنز بنائے جبکہ کراچی کنگز نے 19.3 اوورز میں چھ وکٹوں پر 131 رنز بنا کر میچ جیت لیا۔ کراچی کی یہ پی ایس ایل 11 میں مسلسل دوسری کامیابی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے ٹورنامنٹس میں عام طور پر چار سے پانچ الگ پچز استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ ٹیمیں یکساں حالات میں کھیل سکیں، مگر لگاتار ایک ہی پچ پر میچز کی وجہ سے بالرز کو وکٹ لینے میں آسانی جبکہ بیٹسمینوں کو رنز بنانے میں مشکلات پیش آئیں۔
میچ میں کراچی کنگز کے معین علی، میر حمزہ اور آسٹریلیا کے ایڈمز زمپا نے دو دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ زمپا کو بہترین کارکردگی کے لیے پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ لاہور قلندرز کی طرف سے شاہین شاہ آفریدی نے چار اوورز میں 18 رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں۔بیٹنگ کی بہترین اننگز محمد وسیم (38 رنز) کی رہیں جبکہ لاہور قلندرز کے عبداللہ شفیق نے 33 اور حسیب اللہ نے 28 رنز بنائے۔