سابق کھلاڑیوں اور کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کنگز اور لاہور قلندرز کے درمیان پی ایس ایل کے میچ میں اگر امپائرز نے گیند تبدیل کی تو اس کی کوئی بڑی وجہ ہوگی۔
سابق کرکٹر سعید اجمل نے کہا کہ امپائرز کبھی بھی گیند کو بغیر کسی وجہ کے تبدیل نہیں کرتے ہیں اور اگر بولنگ سائیڈ پر پانچ رنز کی پینلٹی لگائی ہے تو ان کو یقین تھا کہ گیند کی حالت کو غلط طریقے سے تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حارث کا 18واں اوور گیند کی حالت تبدیل ہونے کے بعد ہوا، اسی لیے وہ اچھا گیا۔
سابق کرکٹر، پاکستان ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ ہارون رشید کا کہنا تھا کہ گیند تبدیل ہونے پر پانچ رنز کی پینلٹی لگنا ایک بہت بڑی سزا ہے اور لاہور قلندرز کے نہ صرف فخر زمان بلکہ دوسرے کھلاڑیوں کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ہارون رشید نے کہا کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی کئی بار ایسے واقعات ہوئے ہیں جہاں کھلاڑیوں نے بال ٹیمپرنگ کی ہے۔
لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی نے یہ میچ ہارنے کے بعد اتوار کی رات یہ موقف اپنایا کہ ان کو گیند کی حالت میں تبدیلی کے حوالے سے علم نہیں تھا۔ شاہین نے امپائرز کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا لیکن بال ٹیمپرنگ کے الزام سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
سابق ٹیسٹ کرکٹر اور کپتان معین خان نے اس طرف اشارہ کیا کہ اتوار کی رات جو واقعہ ہوا اس سے لوگوں کی پاکستان سپر لیگ میں مزید دلچسپی بڑھ گئی ہے۔ معین خان نے کہا، "مجھے نہیں پتا کہ امپائرز نے کس بنا پر یہ فیصلہ کیا مگر ان کو گیند کی حالت کا صحیح پتا ہوگا کیونکہ وہ گراؤنڈ پر موجود تھے، اب قوانین کے تحت جو ہونا ہے وہ ہوگا لیکن اتنا میں جانتا ہوں کہ پی ایس ایل میں مزید دلچسپی بڑھ جائے گی۔"
میچ ریفری روشن ماہنامہ نے فیصلہ کرنا ہے کہ لاہور قلندرز کے فخر زمان یا کسی اور کھلاڑی کو کتنی سزا دی جائے۔ گزشتہ رات کو ہونے والی سماعت میں انہوں نے بال ٹیمپرنگ کے چارجز لگا دیے مگر فخر نے اپنی غلطی ماننے سے انکار کر دیا۔ قوانین کے تحت فخر زمان پر ایک یا اس سے زیادہ میچز کی پابندی لگ سکتی ہے۔