حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کی ایک ٹیم جلد پاکستان کا دورہ کرے گی تاکہ آئندہ بجٹ کی تیاریوں کا جائزہ لے اور منصوبہ بند اصلاحات کا معائنہ کرے۔
حکام نے بتایا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجٹ کے عمل کو مزید شفاف بنایا جائے گا اور حکومت کے اخراجات اور مالی منصوبہ بندی کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ بجٹ کے فیصلوں میں تاخیر کو کم کرنے، بار بار تبدیلیوں سے بچنے اور مالی نظم و ضبط کو مضبوط کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا تھا کہ ہنگامی فنڈز نئے مالی سال میں بھی جاری رکھے جائیں گے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کو غیر متوقع بحرانوں، جیسے مشرق وسطیٰ میں خطے کی کشیدگی سے پیدا ہونے والے اثرات، کے باعث وسط سال میں کٹوتیوں سے بچانے کی کوشش کی جائے گی۔ وزارت خزانہ نے ٹیکس پالیسی آفس کو فعال کیا ہے اور بجٹ اصلاحات کی ذمہ داریاں متعلقہ دفاتر کو تفویض کی گئی ہیں تاکہ نگرانی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
حکام نے مزید کہا کہ یہ اصلاحات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے اور بین الاقوامی مالی معیار کے ساتھ ہم آہنگی بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں، تاکہ مالی سال 2026-27 کے لیے بجٹ کا نظام زیادہ مؤثر اور جوابدہ ہو۔