اسرائیلی فوج نے تہران میں میزائل بنانے والی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً 40 اسلحہ سازی اور تحقیقاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھر اصفہان میں شدید دھماکوں کی ویڈیو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی۔ امریکی حکام کے مطابق اسلحہ ذخائر کو نشانہ بنانے کے لیے 2,000 کلوگرام وزنی بنکر بسٹر بم استعمال کیا گیا اور زیر زمین تنصیبات کو تباہ کرنے والے دیگر گولہ بارود بھی استعمال ہوئے۔
یہ حملہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد اب تک کی سب سے خطرناک بمباری قرار دیا جا رہا ہے۔ تہران میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد مشرقی تہران کے کچھ علاقوں میں بجلی معطل ہو گئی، تاہم بعد ازاں بحال کر دی گئی۔
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں بھی 10 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔