اسرائیل کی پارلیمنٹ نے ایک متنازع اور غیر قانونی اقدام کرتے ہوئے سزائے موت کے قانون کی منظوری دے دی۔ نئے قانون کے تحت جو بھی اسرائیلی شہریوں کو قتل کرے گا، اسے سزائے موت دی جائے گی۔
اس اقدام پر فلسطینی تنظیموں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے کھلی ناانصافی اور نسل پرستانہ قرار دیا ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ خطے میں کشیدگی اور تشدد کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اسرائیلی اقدام کے بعد عالمی برادری کی توجہ بھی اس خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی جانب مرکوز ہو گئی ہے۔