گورنر سندھ نہال ہاشمی نے وکلا برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکیل برادری قائد اعظم محمد علی جناح کی وارث ہے اور اسے اپنے پیشے کے وقار اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وکلا کو عدالتوں سے غیر ضروری ریلیف طلب کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور تمام معاملات قانونی تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے چاہئیں۔
نہال ہاشمی کا کہنا تھا کہ بانیٔ پاکستان سمیت ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف جیسی اہم شخصیات کا تعلق وکالت کے پیشے سے رہا ہے، اس لیے اس پیشے کی عزت ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے وفاقی اور سندھ حکومت کے سامنے وکلا کی نمائندگی کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 40 برس سے عدالتی راہداریوں سے وابستہ ہیں اور یہ رشتہ برقرار رہے گا۔
گورنر سندھ نے علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کچھ قوتیں ملک میں امن و امان خراب کرنا چاہتی ہیں اور بھارت فالس فلیگ آپریشن جیسی کوشش کرسکتا ہے، اس لیے ہمیں ماضی کی غلطیاں دہرانے سے بچنا ہوگا۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ذخیرہ اندوزی جیسی سماجی برائیوں کا خاتمہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
کفایت شعاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت منی لاک ڈاؤن جیسے اقدامات کر رہی ہے اور وہ خود بھی تنخواہ نہیں لے رہے بلکہ ان کے اہل خانہ اپنے ذاتی ذرائع سے گزر بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تشدد پر مبنی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا اور ایک پرامن پاکستان کے لیے ہمیں آئین و قانون کے مطابق جدوجہد کرنی ہوگی۔