سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ کابینہ کے اہم فیصلوں سے آگاہ کیا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ کابینہ نے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت فیصلہ کیا ہے کہ کوئی بھی محکمہ بجٹ سے باہر درخواست نہیں بھیجے گا۔ اجلاس میں کچے کے علاقے کے جامع سروے کی منظوری دی گئی ہے جس کے لیے رقم بھی مختص کر دی گئی ہے تاکہ سیکیورٹی مسائل حل کرنے میں آسانی ہو۔
کابینہ نے گندم کی خریداری کے لیے ایک ملین میٹرک ٹن کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کی خریداری 'ہاری کارڈ' کے ذریعے کی جائے گی۔ شرجیل میمن نے واضح کیا کہ حکومت کے پاس کاشتکاروں کا مکمل ڈیٹا موجود ہے۔ اس کے علاوہ، حاملہ خواتین میں کینسر اور دیگر امراض کی تشخیص کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیچنگ سینٹر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں ریگولر چلتی رہیں گی، تاہم ہفتے کے روز اسکول بند رہیں گے۔
دیگر منظور شدہ منصوبوں میں سینٹ پیٹرک اسکول میں اسٹیڈیم کے لیے 10 کروڑ، طلبہ کی فیس واپسی کے لیے 3.4 ارب، ایس ڈی جیز اسکیموں کے لیے 4.33 ارب، اور عورت فاؤنڈیشن کے لیے 5 کروڑ روپے کی گرانٹ شامل ہے۔ درازہ شریف میں سچل سرمست لائبریری کے لیے 5 کروڑ 15 لاکھ اور شاہ لطیف بھٹائی کے مزار پر ترقیاتی کاموں کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر بوجھ بانٹ رہی ہیں تاکہ عوام پر کم سے کم اثر پڑے۔
وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے بتایا کہ کچے میں پولیس آپریشن کے نتیجے میں 393 افراد نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوباوڑو سے ٹھٹہ تک کچے کے علاقے کا سروے کیا جائے گا اور حکومت کی خواہش ہے کہ کچے کی زمینیں بیوہ خواتین اور ضرورت مندوں کو الاٹ کی جائیں۔ دادو کیس کے عدالتی فیصلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فریقین کو فیئر ٹرائل کا موقع دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف برادریوں کے سردار تنازعات کے حل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔