آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث دنیا کو تاریخ کے بڑے تیل بحران کا سامنا ہے، جبکہ ایشیا میں ایندھن کی شدید قلت سے پاکستان سمیت کئی ممالک بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
امریکی میڈیا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو خام تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جبکہ طلب کم کرنے کے لیے قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی اشاعتی و نشریاتی ادارے بلومبرگ کے مطابق، اگر ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور جنگ طویل ہوتی ہے تو عالمی معیشت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں عالمی تیل سپلائی میں یومیہ تقریباً 11 ملین بیرل تک کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جبکہ ایل این جی سپلائی متاثر ہونے کے باعث گیس بحران بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق اس بحران کے اثرات اب یورپ تک بھی پہنچ رہے ہیں، جہاں ڈیزل کی قلت کے خطرات بڑھ گئے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر مہنگائی میں تیزی اور معیشتوں پر دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کئی ممالک نے ایندھن کے استعمال میں کمی لانے کے لیے راشننگ اور بچت اقدامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل راستوں کے ذریعے سپلائی برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
بلومبرگ نے مزید کہا ہے کہ اگرچہ فوری بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی تیل ذخائر استعمال کیے جا رہے ہیں، تاہم یہ مستقل اور پائیدار حل نہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو نہ صرف تیل اور گیس کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہوگی بلکہ ترقی پذیر ممالک کو مہنگائی، توانائی بحران اور اقتصادی دباؤ کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔